اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے شمال میں واقع تل تمر نامی اسٹریٹجک علاقے میں کرد ملیشیا اور دہشت گرد گروہ داعش کے درمیان شدید لڑائی میں دونوں طرف سے چالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ لڑائی ہفتے کے روز سے، صوبہ حسکہ میں تل تمر پر قبضہ کرنے کے مقصد سے، کرد ملیشیا پر داعش کے حملے کے ساتھ شروع ہوئی ہے۔ شام کے بحران پر نگراں ایک گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ تل تمر کی جانب داعش کے عناصر کی جارحانہ پیشقدمی کے بعد کرد ملیشیا نے جوابی حملہ کرکے اس علاقےمیں دہشت گردوں کو پسپا کردیاہے۔ تل تمر ایک اسٹریٹیجیک علاقہ ہے جس پر داعش گروہ قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے- فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تل تمر پرداعش کا قبضہ ہوجاتا ہے تو اس گروہ کا صوبہ حسکہ کے مشرقی حصے اور خود حسکہ شہر کے درمیان واقع اہم شاہراہ پر کنٹرول ہوجائے گا جو اس وقت کردوں کے کنٹرول میں ہے۔ واضح رہے کہ شام میں مغرب اور اس کے عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے پیدا کیا گيا بحران چار سال گذرجانے کے بعد ابھی بھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169